نئی دہلی،09؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لندن میں بے خوف گھوم رہے مفرور نیرو مودی پر وزارت خارجہ کی جانب سے بیان آ گیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ہم نیرو مودی کی حوالگی کو لے کر کارروائی کر رہے ہیں۔لندن میں وہ دکھ گیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اس کو فوری طور پر ہندوستان لے آئیں گے،اس کے لئے ایک عمل ہوتاہے، جو ہم کر رہے ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال اگست میں نیرو مودی کے حوالگی کی درخواست کی تھی،ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں ہے، دوسری صورت میں ہم یہ درخواست نہیں کرتے،ہم نے ای ڈی اور سی بی آئی سے ملی معلومات کی بنیاد پر حوالگی کی درخواست کی ہے، اب برطانیہ کی جانب سے جواب آنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں برطانیہ حکومت سے حوالگی کے لیے کوئی نیا دستاویزات جمع کرانے کے لئے نہیں کہا گیا ہے، جب تک کہ ہمیں برطانوی حکومت سے کوئی معلومات نہیں ملتی اس وقت تک یہ معاملہ برطانیہ حکومت کے پاس زیر غور ہے،اب اس کے آگے کی کوئی معلومات نہیں ملی ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ وجے مالیا کے کیس کی طرح ہم نیرو مودی معاملے پر شدت سے کارروائی کر رہے ہیں،یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نیرو مودی کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔بینکوں کا 13 ہزار کروڑ لے کر فرارنیرو مودی لندن کی سڑکوں پر اپنا لک بدل بے خوف گھما دکھا۔اس کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری ہو چکا ہے۔اس کے بعد بھی وہ اس بات سے بے پرواہ ہے کہ ہندوستان کی جانچ ایجنسی اسے تلاش رہی ہے۔نیرو مودی کی تصویر سامنے آنے کے بعد اب کانگریس اس کو لے کر مودی حکومت پر حملہ آور ہو گئی ہے۔کانگریس نے ٹویٹ کیا ہے کہ میڈیا نے نیرو مودی کو تلاش نکالا۔مودی حکومت نیرو تک کیوں نہیں پہنچ پائی،نیرو مودی کو کون بچا رہا ہے۔